سری نگر، 14؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) جموں و کشمیرمیں پیر کو سری نگر کے پنتھ چوک علاقے میں سکیورٹی فورسز پر دہشت گردانہ حملے کی خبر نے انتظامیہ میں ہلچل مچادی ہے۔ اس حملے میں 3فوجی جوان شہید جبکہ 11جوان زخمی بتائے جارہے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ سکیورٹی فورسز کو لے جانے والی بس پر ہوا۔ یہ بس جموں و کشمیر کی 9ویں بٹالین کے پولیس اہلکاروں کو لے کر جا رہی تھی۔ اس واقعہ کے بعد پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور دہشت گردوں کی تلاش جاری ہے۔یہ دہشت گردانہ حملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک دن قبل اتوار کو پلوامہ ضلع میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں جیش محمد کا ایک دہشت گرد مارا گیا تھا۔ دراصل، سکیورٹی فورسز نے جنوبی کشمیر کے ضلع اونتی پورہ کے بارگام علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خاص اطلاع ملنے کے بعد محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی تھی اسی دوران دہشت گردوں نے ان پر گولیاں چلا دیں۔سرچ آپریشن کے دوران گھرے ہوئے دہشت گرد کی موجودگی کا پتہ چلا تو انہیں ہتھیار ڈالنے کیلئے کافی موقع دیاگیا۔ مشترکہ تلاشی پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ یہ تصادم سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی سے شروع ہوا جس میں جیش محمد سے تعلق رکھنے والا ایک دہشت گرد مارا گیا۔ دہشت گرد کی شناخت سمیر احمد تانترے کے طور پر ہوئی ہے جو بارگام کا رہنے والا ہے۔